Thursday, January 11, 2018

سوچنے اور سمجھنے کی باتیں

کسی اندوہناک واقعے کا تجزیہ کرنا ایک مشکل عمل ہے لیکن جب بات پھول سے بچوں کے ساتھ درندگی کی ہو تو دل کے ساتھ ساتھ دماغ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ جو معصوم ذرا سی ڈانٹ سے سہم جاتے ہوں وہ ایسی وحشت ناک صورتحال کا سامنا کیسے کر پاتے ہوں گے۔ ایک گمشدہ بچے کے ماں باپ پر نجانے کیا قیامت بیتتی ہوگی اور وہ اپنے پیارے کو دیوانہ وار کہاں کہاں ڈھونڈتے پھرتے ہوں گے۔
قصور واقعہ نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا، ایسی درندگی پر خود کو سنبھالنا آسان نہیں۔ ہر دوسرا شخص قاتل کو موقع پر گولی مارنے، سر عام پھانسی لٹکانے یا ایسی اذیت ناک سزا کا مطالبہ کر رہا ہے کہ کسی اور کو پھر ایسی حرکت کی جرات نہ ہو۔ غصے سے بھرے ہجوم نے تو بسوں، گاڑیوں اور دفتروں کو جلا کر اپنے جذبات کا اظہار بھی کردیا ہے۔
ایسی جذباتی کیفیت قدرتی بات ہے، حکومت وقت کو ملامت کرنا اور دباو ڈالنا بالکل حق بجانب ہے کہ ایسی مجرمانہ لاپروائی کیسی ہوئی، تھوڑے ہی عرصے میں بچوں کے اغواء اور ان سے درندگی کے اتنے واقعات کیسے ہوگئے؟ جہاں مجرموں کا سراغ لگانا چاہیئے، وہیں غفلت برتنے والے قانون کے رکھوالوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہیئے۔
اس کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں اور خاص طور پر اپنے بچوں میں آگہی اور ایسی ضروری معلومات پہنچانے کا بندوبست کرنا چاہیے جس سے وہ ایسی صورتحال کا شکار نہ ہو پائیں۔ اس بارے میں بہت کچھ میڈیا میں آچکا ہے، کافی لوگ سوشل میڈیا پر بھی آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔ تعلیمی نصاب میں جنس کے متعلق معلومات پر بھی بحث چل رہی ہے اور علماء کرام کو مزید کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی جا رہی ہے۔
یہ سب باتیں بالکل ٹھیک ہیں، ان پر عمل بھی ہونا چاہیے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی اصل مسئلہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، یہ سب آگ سے بچنے کے طریقے ہیں اس کو بجھانے کے نہیں۔ ہمیں اس حوس اور درندگی کی آگ کی وجوہات جاننا ہونگی جو ایک عام انسان کو ایسی حیوانیت پر اکساتی ہے۔ ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے  ہمیں اپنی بیٹیوں سے زیادہ اپنے بیٹوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آخر یہ مجرم اور اس پہلے ہونے والے سیکنڑوں واقعات میں ہمارے ہی بھائی، بیٹے یا قریبی دوست ہی ملوث ہونگے، کہیں دوسرے سیارے کی مخلوق تو نہیں ہیں ایسے لوگ۔ جب ہمارے قریبی لوگ کسی لڑکی کو تنگ کرتے ہیں، گھٹیا اور گندے جملے کستے ہیں، فحش فلمیں دیکھتے ہیں، ننگی گالیاں نکالتے ہیں تو ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کو سختی سے منع کرتے ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ایسی سوچ و عمل والا انسان اس سے باز آجائے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھیں کہ کتنے لوگ اپنے بچوں کی ایسی حرکات پر "جوانی میں سب کرتے ہیں" کہہ کر غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بیٹا ہو یا بیٹی، اپنے عمل سے سکھائیں دونوں کو مگر ہاتھ اس کا روکیں جس کا اٹھ رہا ہے۔

Thursday, July 14, 2016

Developments of current government

1. Acquisition of Dawlance  and and Engro Food by foreign investor will bring $718M direct investment.

2. Pakistan on track to end power shortages within two years - ADB
https://t.co/0diz3ufZhr

3. China to invest $8.5b to upgrade Pakistan's rail network
http://m.khaleejtimes.com/international/pakistan/china-to-invest-85b-to-upgrade-pakistanss-rail-network

4. Inflation down to 3.3%

5. Fiscal deficit down to 4.1%

6. GDP at solid 4.5%

7. Terrorism deaths down 74% since 2010!

Financial Times

8. Pakistan is rising!
KSE-100 crosses 39,000 mark first time in history

9. Bloomberg declares Pakistan as Asia’s No1 market
http://perspective.pk/bloomberg-declares-pakistan-asias-no1/

10. Pakistan meets tax revenue target for first time in a decade
https://m.geo.tv/#category|latest-news|p108809-Pakistan-meets-tax-revenue-target-for-first-time-in-a-decade

11. Pakistan Stocks Get MSCI Boost
http://www.wsj.com/articles/pakistan-stocks-rise-after-qualifying-for-msci-emerging-markets-index-1466011295

12. Gwadar Int'l Airport will have the capacity to land the largest Aircraft A380 on its Runways.

13. Canada to Set Up Solar Plants in Baluchistan.
https://t.co/W1OnAgB3ru

14. These are the '10 emerging markets of the future'
https://www.weforum.org/agenda/2016/07/these-are-the-10-emerging-markets-of-the-future/

15. Investment in Pakistan is expected to increase to 15.4 percent of GDP by 2017 as a result of operationalization of the China-Pakistan Economic Corridor

16. 2 Million Jobs To Be Created Through CPEC

17. Petrol prices in Pakistan are the 18th lowest in the World.
https://t.co/hOrTfH8h2C

18. Delivering as per promise ... Tarbela 4th  extension 1410 MW will b ready for system in June 2017

19. Inflation hit 13-year low in FY16
https://t.co/8e8L9Do1vl

20. $22 billion agreement for import of Liquefied Natural Gas (LNG) to Pakistan for 20 years.
https://t.co/mt0nj31iN5

21. VimpelCom plans 1billion dollars (USD$1B) Investments in IT infrastructure as a result of Mobilink and Warid Merger.
https://t.co/5EDh6rVj0Q

22. Pak stock markets outperforming regional markets,providing15% returns whereas other markets are @10% or in negative.
https://t.co/as94lDyTmw

23. Average internet speed increased by 150%, big achievement! Govt striving hard to make it even better.
https://t.co/mLBk4hmz84

24. Parco to build Pakistan's ‘biggest oil refinery’ in Hub.
https://t.co/vcAQqWBpou

25. LoS signed for setting up 640MW plant in AJK
https://t.co/aogGRBpc52

26. World's Largest Gas Power Generation Turbine to be installed in Pakistan  (Bhikhi-Shekhupura)
https://t.co/Orv58HrVN9

27. WB to fund $200m water project
https://t.co/0gv2bmNNyc

28. Pakistan's oil and gas discoveries touch record.
https://t.co/N2OShidg2t

29. CASA-1,000 power project: European firms vying to set up converter stations.
https://t.co/17akMGhfoc

30. 124 new large-scale manufacturing units set up in country over3years https://t.co/nFhQa4IrVx

Tuesday, July 5, 2016

مدینہ منورہ میں ہوا افسوس ناک واقعہ

گنبد خضرا کے سامنے افطار کرنے پر اور مدینہ منورہ کی دوبارہ حاضری پر ہم کچھ دوست اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ ابھی افطار کیے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ ایک انتہائی زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی، زمین دہل گئی تھی، اکثر لوگ اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے اور دھماکے کی آواز کی جانب دیکھ رہے تھے۔ پہلے تھوڑا سا دھواں اٹھا اور چند لمحوں بعد دھویں کے سیاہ بادل اور آگ کے شعلے نظر آنا شروع ہو گئے۔
جنت البقیع کے آخری حصہ پر، قبلہ کی جانب اور سڑک کے دوسری جانب دو خالی میدان ہیں جہاں لوگ اکثر اپنی گاڑیاں کرتے ہیں، یہ دھماکہ اسی جگہ ہوا تھا اور ہم سے یہ جگہ کوئی 200 سے 250 میٹر دور تھی۔ شروع کے کچھ لمحات لوگ ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے رہے کہ یہ کوئی گیس سیلنڈر یا گاڑی کے ٹائر پھٹنے کی آواز تھی، لیکن جتنا زوردار دھماکہ تھا دل نہیں مان رہا تھا ان تسلیوں پر۔
نماز مغرب اپنے معمول پر ادا ہوئی اور اس کے بعد کچھ ابتدائی خبریں آنا شروع ہوئیں عالمی میڈیا پر اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز آنا شروع ہو گئیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 6 لوگ شہید ہو چکے ہیں اور یہ کون بد بخت لوگ ہو سکتے ہیں جو گنبد خضرا کے سامنے افطار کے وقت دھماکہ کریں، جس بارگاہ میں آواز اونچی کرنے کی ممانعت ہے ۔۔۔
اللہ پاک رحم فرمائے

Tuesday, June 14, 2016

کیا مصیبت ہے ۔۔۔



ہمیں ہر روز مختلف مزاج کے لوگ ملتے ہیں، کئی قسم کی پچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دفتر، کاروبار یا خاندانی الجھنیں بار بار ہمارے راستے میں آ کھڑی ہوتی ہیں- مہنگائی، روزگاراور ملکی سلامتی کے مسائل اس کے سوا ہیں۔ بعض اوقات ہم لوگ جھنجلا کر بول اٹھتے ہیں کہ 'کیا مصیبت ہے ۔۔۔

یہ ایک طرح سے مایوسی، جنجھلاہٹ یا پریشانی میں سے کسی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے، جسے ہم اپنے کسی قریبی کو بیان کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں اور کبھی دل کے کسی کونے میں دبا لیتے ہیں۔ لیکن آپ کے خیال میں ہمیں اکثر کسی نہ کسی 'مصیبت' کا سامنا کیوں رہتا ہے؟ کیا ہم ایسی صورتحال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں یا ہر ایک کی قسمت میں کئی طرح کی 'مصیبتیں' لکھ دی گئی ہیں اور ہم وقتا فوقتا اپنا اپنا حصہ بقدر جسہ وصول کرتے رہتے ہیں؟

میرے خیال میں ۔۔۔ کچھ مسائل ہم خود اپنی نادانی، غلطی یا ضد کی وجہ سے پیدا کرلیتے ہوں گے، مگر زیادہ تر 'مصیبت' ہمارے لئے لکھی گئی ہوتی ہے۔ بلکہ میرے خیال میں یہ 'مصیبت' سے زیادہ آزمائش اور تربیت کا وقت ہوتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک اور موقع مل جاتا ہے، اپنے صبر اور تحمل کی جانچ ہو جاتی ہے۔

آپ کسی بھی ایسی صورتحال کو 'مصیبت' سمجھتے ہیں یا 'موقع'، آپ کا یہ رویہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آپ اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں۔ محض 'مصیبت' جانتے ہوئے وقت، حالات، قسمت یا دوسروں کو کوستے ہیں یا ایک چیلنج اورموقع سمجھتے ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہوئے، اپنے اقدامات اور امکانات کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے اپنا اگلہ لائحہ عمل وضح کرتے ہیں



ہم غلطیوں سے مبرا پیدا نہیں کیے گئے ہیں، مگر ہماری قطعاً یہ مجبوری نہیں ہے کہ ہمیں ہمیشہ ایک سی ہی صورتحال میں رہنا ہے، محنت اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی ہے۔ ہماری ذمہ داری کوشش کرتے رہنا ہے اور اچھے نتائج کے بارے میں پر امید رہنا

ایک چھوٹی سی کہانی سنیں۔ کراچی میں مقیم ایک پٹھان خاندان کا لڑکا اپنے والد اور بڑے بھائی کی طرح کھیلنا اور دنیا میں اپنا نام بنانا چاہتا تھا، اس سوچ اور لگن کو اس وقت شدید دھچکہ لگا جب تیرہ سال کی عمر میں یہ لڑکا اس قدر بیمار ہوا کہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہا اور ڈاکٹروں نے کسی بھی جسمانی مشقت سے منع کردیا۔ اس لڑکے نے پھر بھی کوشش جاری رکھی، مگر ملک کی نمائندگی کے لیے ابتدائی طور پر منتخب نہ ہو سکا- اپنی محنت، لگن اور جذبے سے سترہ سال کی عمر میں ورلڈ چیمپئین بننے والے، مسلسل ۵۵۵ میچ جیت کردنیا کی کسی بھی کھیل کا ایک اچھوتا ریکارڈ بنانے والے اور سب سے زیادہ بار برٹش اوپن جیتنے والے اس 'کمزور' لڑکے کا نام ہے ۔۔۔ جہانگیر خان، سکواش کا سب سے عظیم کھلاڑی

Thursday, April 28, 2016

المیہ در المیہ.....


ہمارے معاشرے کی بے حسی اور انتشار کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ایک ہولناک سانحے کو ایک چیلنج اور سبق کے طور پر لینے کی بجائے, ہم مسلسل المیے جنم دے رہے ہیں

ایک المیہ تو وہ جو قصور کے بچوں پر نہ صرف بیت گیا بلکہ زندگی بھر کا روگ بن گیا, لیکن اس کے ساتھ کئی المیے دیکھنے کو ملے, جو ہمارے گرد موجود تو بہت دیر سے تھے مگر اتنی شدت سے کم ہی سامنے آئے تھے, تصور کریں کہ ہمارے رویہ کیا ہونا چاہیے تھا اور ہم نے کیا رویہ اپنایا

یہ کیا کم المیہ ہے کہ ہماری حکومت جس کی بنیادی ذمہ داری ہی ایسے واقعات کو روکنا اور اگر خدا نا خواستہ ایسے واقعات ہو جائیں تو جلد ازجلد ذمہ داروں کا تعین کرنا اور ایسے جرائم کا سدباب کرنا ہے, لیکن حکومت کے ذمہ داران تو اس واقعہ کی سنگینی سے ہی انکاری ہیں اور اس کیس کو عمومی جائداد کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں

جبکہ حزب اختلاف والوں کا المیہ یہ ہے کہ اس واقعہ کو, حکومت کے ساتھ اپنا سکور برابر کرنے کے لیے, ایک سنہری موقعہ جان رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی تحقیق سے پہلے ہی اپنا فیصلہ بھی سنا چکے ہیں 

پولیس کا تو ذکر ہی کیا, وہ تو اب خود میں ایک المیہ ہیں, کہ جن پر عوام کی حفاظت اور خدمت کی ذمہ داری ہے, عوام اسی کے شر سے سب سے زیادہ ڈرتی ہے

کیا یہ المیے سے کم ہے کہ ایک پورا گاؤں کئی سال تک ایسی غلیظ حرکات سے آگاہ تھا اور کسے نے آواز بلند نہیں کی, کسی نے آکر کسی اخبار یا ٹی وی پر اس ظلم کے خلاف دھائی نہیں دی, کیسے سب برادشت کرتے رہے اور وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ

اور سب سے بڑا المیہ ہمارے میڈیا والوں کا رویہ تھا, جن کر درمیان دوڑ لگی تھی کہ کتنے زیادہ سے زیادہ بچوں کے ساتھ یہ ہولناک سانحہ ہوا اور کس کے پاس سب سے زیادہ ویڈیوز ہیں,  پھر سے یہ ہولناک سچائی سامنے آئی کہ 'سب سے پہلے' کی دوڑ میں اخلاقیات اور قوائد انتہائی غیر ضروری ہیں, ایک عدد کیمرے اور مائک کے ساتھ آپ جس کو اور جب چاہیں دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں, چاہے وہ اس سانحے سے گزرا ہوا بچہ ہی کیوں نہ ہو, جو دل چاہے بول سکتے ہیں, چاہے اس کا تعلق حقیقت سے کہیں دور کا بھی نہ ہو

دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ ہمارے حال پہ رحم کرے کہ جن حالات تک ہم پہنچ چکے ہیں, قدرت شائد ایسا بندوبست کرے کہ ہمارے پاس اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کا موقع بھی نہ رہے, آخر کب تک ہم اپنی کوتاہیوں اور خرابیوں سے پہلو تہی کرتے رہیں گے, کبھی اور کہیں سے تو شروعات کرنی ہوگی, سچائی کا سامنا پوری ایمانداری سے کرنا ہوگا

Wednesday, October 29, 2014

چائے, چاکلیٹ اور وائی فائی


 ریاض جیسے خشک شہرمیں رہتے ہوئے,ہم فیملی والوں کی سب سے بڑی 'عیاشی' کسی پارک یا کسی مشترکہ دوست کی طرف اکھٹے ہو کر گپ شپ کرنا ہوتی ہے, مرد حضرات زیادہ تر سیاست اور کھیل, خواتین حسب معمول 'گپ شپ' اور بچے کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں, ساتھ میں کھانا, چائے تو لازمی جز ہے 

ایسی ایک ملاقات اس شام ہوئی, جب میں اپنے دوست  کے ساتھ ایک تیسرے مشترکہ دوست کی طرف چائے کے لیئے اکھٹے ہوئے, ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد صورتحال یہ تھی کہ ہم سب اپنے اپنے موبائیلز کی سکرینوں میں کھوئے ہوئے تھے. میں حسب عادت سیاسی خبروں میں گم تھا, دوسرا دوست اپنے آفس ایمیلز کھولے بیٹھا تھا اور جن بھائی صاحب کی گھر پر اکھٹے ہوئے تھے وہ فیس بک کی ویڈیوز کے مزے لے رہے تھے


دیکھنے کو ہمارا فاصلہ آپس میں تین فٹ سے زیادہ نیہں تھا, مگر حقیقت میں ہم لوگ تین مختلف خیالاتی دنیاؤں میں کھوئے ہوئے تھے, جسمانی طور پر موجود مگر ذہنی طور پر کہیں اور غائب تھے. ایسا نیہں تھا کہ ہمارے پاس بات کرنے کو موضوع کی کمی تھی یا کوئی ناراضی تھی, بس آج کل کی نئی ٹیکنالوجی نے ہمارے ترجیحات تندیل کردی ہیں. آج کل کی محفلوں میں ہم لوگ سامنے بیٹھے لوگوں سے زیادہ, سینکڑوں میل دور دوستوں سے زیادہ رابطے میں ہیں, آپس کے دکھ سکھ سے زیادہ ہمیں ملکی و عالمی خبروں میں دلچسپی ہے

میرے خیال میں ہمیں اپنے دوستوں میں 'موبائیل جیب میں' مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ مجبوراً ہی سہی, ہم لوگ آپس میں بات چیت تو کریں, جسمانی اور ذہنی طور پر ایک ہی جگہ تو رہیں

چلتے ہوئے, میرے ساتھ آئے دوست نے میزبان دوست سے ہنستے ہوئے شکریہ ادا کیا, میزبان دوست نے پوچھا کس بات کا شکریہ تو وہ بولا


"چائے, چاکلیٹ اور وائی فائی"





Wednesday, August 27, 2014

ایک انصافی دوست سے "ممکنہ" مکالمہ

ایک انصافی دوست سے "ممکنہ" مکالمہ
-
میں: یار یہ اپنے خان صاحب کو کیا ہو گیا ہے, پہلے سول نافرمانی, پھر ہنڈی سے پیسے اور اب بنکوں سے پیسے نکلوالو, یہ انتہائی غیر معقول مطالبہ ہے پاکستانیوں سے
-
انصافی: ارے, یہ تو کپتان کی ایسی 'ماسٹر سٹروک' ہے جو تم لوگوں کی سجھ سے باہر ہے-
-
میں: وہ کیسے
-
انصافی: دیکھو, جب ہم ٹیکس نہیں دینگے, باہر سے پیسے نہیں آئینگے اور ہم بنکوں سے پیسے نکلوا لینگے تو حکومت گھٹنوں پر آ جائے گی اور کپتان کی سب باتیں مان لے گی.
-
میں: لیکن حکومت تو پہلے ہی چھ میں سے پانچ مطالبے مان چکی ہے, بس وزیراعظم کا استعفی رہ گیا ہے-
-
انصافی: اسی لیے تو کپتان نے سول نافرمانی, ہنڈی سے پیسے اور بنکوں سے پیسے نکلوانے کی بات کی ہے, تاکہ استعفی لیا جاسکے اس دو نمبر وزیراعظم سے
-
میں: یعنی اصل مسئلہ وزیراعظم ہے, مگر ٹیکس نہ دینے سے وزیراعظم کو کیا فرق پڑے گا, ٹیکس تو ریاستی ادارے اکھٹا کرتے ہیں اور اس کا بڑا حصہ بھی ریاستی امور پر خرچ ہوتا ہے, جیسے تنخواہ
-
انصافی: تمہیں سمجھ نہیں آ سکتی یہ بات, کپتان کوئی گیند ایسے ہی نہیں پھینکتا- تم نے دیکھا نہیں سٹاک مارکیٹ کیسے نیچے آرہی ہے, بارہ دن میں 800 ارب کا نقصان ہو چکا ہے, کچھ  دنوں میں حکومت مزید  دباؤ برداشت نہیں کر پائے گی اور کپتان کی بات مان لے گی.
-
میں: فرض کر لیتے ہیں وزیراعظم استعفی دے دیتے ہیں, تو اس سے کیا حاصل ہوگا کپتان کو
-
انصافی: ہمارے مؤقف کی جیت ہوگی کہ وزیراعظم دھاندلی سے آیا تھا اور تحقیقات شفاف ہونگی
-
میں: لیکن, اسمبلی تو پھر بھی برقرار رہے گی, نون لیگ کسی اور کو وزیراعظم بنا دے گی, جو بہرحال اپنے لیڈر کے خلاف تو نہیں جائے گا- اور رہی بات شفاف تحقیق کی, تو سپریم کورٹ حکومت کا ماتحت ادارہ نہیں ہے-
-
انصافی: لیکن باقی ادارے تو ہیں نا, یہ لوگ سب کو خرید لیتے ہیں, جیسے الیکشن سے پہلے سب کو خریدہ تھا-
-
میں: اگریہ بات بھی مان لی جائے کہ الیکشن سے پہلے سب خرید لیئے گئے تھے, جبکہ نون لیگ حکومت میں بھی نہیں تھی تو اب تو پوری طرح حکومت میں ہیں, اب تو وہ آرمی کو بھی خرید لیں گے-
-
انصافی: ہماری آرمی بکاؤ نہیں ہے اور اگر انصاف نہ ملا تو ہم سڑکوں پر ہی رہیں گے اور ہوسکتا ہے, ہڑتال کی کال بھی دے دیں-
-
میں: آپ کا کپتان یہی جذبات عدلیہ کے لیے بھی رکھتا تھا, اب روزانہ کی بنیاد پے بدنام کرتا ہے- خیر ہڑتال کی کال میرے خیال میں کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ ابھی تک آپ کے کپتان کی ذیادہ تر کالز ناکام رہیں ہیں پچھلے دو ہفتے سے
-
انصافی: یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو
-
میں: دیکھو, کپتان نے لوگوں کو کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں میرے ساتھ نکلو اور اسلام آباد میں دھرنا دو, نہ دس لاکھ لوگ نکلے, نہ ایک لاکھ موٹرسایئکل- ابھی تک سوائے تحریک انصاف کے کوئی بھی اس مجمع کو زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار تک مان رہا ہے اور وہ بھی شام سات سے بارہ بجے تک اور خاص طور پر ویک اینڈ پر- 
دوسری بات, سول نافرمانی کو تمام تاجر تنظیموں نے مسترد کر دیا جو حقیقی دباؤ ڈال سکتے تھے اور تنخواہ دار تو ویسے ہی مجبور ہوتے ہیں, یہی حال ہنڈی سے پیسے بھیجنے کا ہوا ہے کیونکہ کوئی بھی بیرون ملک رہنے والا پاکستانی اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لے گا کیونکہ قوانین بہت سخت ہیں اور پکڑے جانے پر کونسا کپتان نے بچانے آنا ہے- یہی حال پہیہ جام ہڑتال کا ہوگا, کیوں کوئی کپتان کی ضد کے لیئے اپنا روزگار بند کرے گا-
-
انصافی: تو کیا کریں, ان کمینوں کی بادشاہت میں سڑتے رہیں, جہاں انصاف نہ ہو, دیکھا نہیں کیسے قادری صاحب کے لوگوں  ------ کو بھون ڈالا ان قاتلوں نے, یہاں انصاف مل ہی نہیں سکتا, ہمیں نظام بدلنا ہے, بس بہت ہو گیا
-
میں: تھوڑا تحمل سے میری باتیں سننا, سب سے پہلے یہ کہ غصہ اور نفرت حل نہیں مگر حل کے لیئے ممیز ضرور ہو سکتے ہیں- جو قادری صاحب کے ساتھ ہوا وہ انتہائی قابل مذمت تھا, بلکہ ظلم تھا اور ان لوگوں کو انصاف ضرور ملنا چاہیے, چاہے کوئی وزیر جائے یا وزیراعظم- البتہ جو کچھ قادری صاحب کر رہے ہیں اسکا تعلق ماڈل ٹاؤن واقعہ سے نہیں ہے, وہ پہلے سے پوری تیاری سے آئے ہیں, جیسے کچھ عرصہ پہلے آئے تھے لیکن تحریک انصاف کا اپنا ایجنڈہ ہے, جو کہ کافی گنجلک ہے-
-
انصافی: وہ کیسے
-
میں: دیکھو, خان صاحب کا اصل مطالبہ ہی استعفی ہے, پھر اصلاحات اور پھر نیا انتخاب- لیکن آپ لوگ اسمبلیوں سے باہر آچکے ہیں تو اصلاحات کا حصہ کیسے بنیں گے- نظام پسند نہیں اور اسی نظام سے انصاف بھی مانگ رہے ہیں- کبھی کہتے ہیں کہ سب بکاؤ ہیں اور پھر تحقیق کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں- جمہوریت کا نعرہ بھی لگاتے ہیں اور اسی جمہوریت کو لپیٹنے کا ماحول بھی بنا دیا ہے اور اب تو سابق ڈکٹیٹر کی تعریفیں بھی شروع ہو گئ ہیں- پہلے سوچ لیں کہ کرنا کیا ہے, رٹو طوطا بننے کی بجائے سوال کریں, پوچھیں لیڈروں سے کے کتنے لوگوں نے ٹیکس دینا چھوڑا ہے, اگر نظام خراب ہے تو اسی نظام کے کل پرزے آپ کے ساتھ کیوں ہیں, جو زبان کپتان استعمال کر رہا ہے ایسی زبان کونسے ماں باپ سکھاتے یا برداشت کرتے ہیں, جب ایک صوبے میں حکومت بنائی تھی تو آپ اس نطام کا حصہ بن گئے اب اس کو بہتر کرنے کی بجائے ختم کیوں کرنا چاہتے ہیں-
-
انصافی: جو بھی ہے کپتان ٹھیک کہتا ہے, تم لوگ چاہتے ہی نہیں کہ پاکستان ترقی کرے, انصاف ہو, بہتری آئے- ہم ہرحال میں کپتان کے ساتھ ہیں-
-
میں: معافی چاہتا ہوں مگر بہت سے بہتر تبدیلیوں کے ساتھ, بہت بری عادات بھی کپتان نے متعارف کر دیں ہیں, ایک اچھی خاصی تعداد 'ذہنی دولے شاہ کے چوہوں' کی بن گئی ہے, جو بس 'یس سر' بولتی جا رہی ہے- یہ نہیں پوچھ رہے کہ بھائی قانونی اور آئینی لڑائی ضرور لڑو لیکن ساتھ ساتھ مقابلہ کارکردگی کا کرو, اصلاحات کا کرو, تا کہ فائیدہ عام لوگوں کو ہو, مگر یہاں ضد بازی کا مقابلہ ہو رہا ہے, گھنٹے کے حساب سے بیان بدلنا کا ریکارڈ بن رہا ہے, بے تقی اور بے سمت تقریر بار بار دہرا کے اور دھمکیاں دے دے کر پوری قوم کو عجیب ہیجان میں مبتلا کیا ہے اور انصافی 'نونہال' صرف سر دھنے جا رہے ہیں, بغیر سوچے سمجھے, اکثر تو جانتے بھی نہیں کہ تحریک انصاف کا اپنے پارٹی الیکشن میں جو شدید بے قاعدگیاں ہوئیں تھیں ان کی رپورٹ پر آج تک کوئی ایکشن نہیں ہوا اور نہ ہی الیکشن ہارنے کی رپورٹ پر, مگر سب برائیاں صرف ایک شخص کے جانے سے ختم ہو جائیں گی یا روز شام کو کنسرٹ کرے سے-
-
انصافی: تم نہیں سمجھ سکتے کپتان کو, کوئی فائدہ نہیں تم سے بات کرنے کا, بائے